11 اکتوبر 2026 - 16:09
عراقی تجزیہ کار کا دعویٰ: جولانی نے یمن کے خلاف جنگ کے لیے 20 ہزار اہلکار سعودی عرب بھیجے

عراقی تجزیہ کار عباس الزیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے حکمران احمد الشرع المعروف جولانی نے یمن کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے 20 ہزار اہلکار سعودی عرب بھیجے ہیں اور بعد میں اتنی ہی تعداد میں اہلکار لبنان اور ضرورت پڑنے پر عراق بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی تجزیہ کار عباس الزیدی نے ’’امریکیوں کے پھنسنے کا نقشہ‘‘ کے عنوان سے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں، ایک طرف امریکہ اور نیٹو کی روس کے خلاف جنگ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے اپنے پرانے اتحادی سعودی عرب سے مدد لے رہا ہے تاکہ یمن کے خلاف جنگ کے ذریعے خطے میں اپنی مشکل صورت حال سے نکلنے کی راہ تلاش کر سکے۔ ان کے مطابق، سعودی، اسرائیلی، امریکی اور مغربی اتحاد کو شکست دینے کا واحد راستہ یمن سے لبنان اور عراق تک مزاحمت کی پُرعزم جدوجہد ہے۔

اسی تناظر میں عباس الزیدی نے، خصوصاً یمن کے محاذ پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بارے میں لکھا:

کیا امریکہ نے جس طرح یورپ کو روس کے ساتھ جنگ میں الجھایا، اسی طرح مکہ اتحاد کی یمن کے خلاف کارروائیوں میں شمولیت کے بعد ایران کے معاملے میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی جائے گی؟

وقت کے ساتھ کامیاب ہونے والے منصوبے اور طریقے، خواہ ان کا تعلق معیشت، سیاست، فوج یا خصوصی سکیورٹی اور انٹیلی جنس کارروائیوں سے ہو، اکثر دوبارہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ہم نے ایسی کئی مثالیں دیکھی ہیں، جن میں یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے روس کے خلاف پرانے طریقے دوبارہ اپنائے۔ اسی طرح طوفان الاقصیٰ کے واقعات کے بعد مزاحمتی محاذ کے خلاف بھی کئی منصوبوں کو پھر سے استعمال کیا گیا۔

دوسرا: یوکرین اور نیٹو

یہ معاملہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کی دعوت سے شروع ہوا، جس کی روس نے مخالفت کی۔ رفتہ رفتہ یورپ اس تنازع میں الجھ گیا اور چند ہی دنوں میں دونوں کے درمیان براہ راست اور تباہ کن جنگ شروع ہو گئی، جبکہ امریکہ نے بظاہر امن کا خواہاں بن کر چالاکی پر مبنی کردار ادا کیا۔

تیسرا: مکہ اتحاد اور یمن کے خلاف جنگ

واشنگٹن ایران کے خلاف بین الاقوامی اتحاد بنانے میں ناکام رہا تو اس نے خلیجی ممالک کے ذریعے کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے سعودی اتحادی کو مکہ اتحاد بنانے کا اشارہ دیا، جس کے نتیجے میں یمن کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں۔

عالمی توانائی اور معاشی بحران کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے اس کارروائی میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا۔ خلیجی ممالک کی جانب سے تیل سے حاصل ہونے والی دولت کی پیشکشوں کے بعد فرانس اور برطانیہ اس کارروائی میں شامل ہو گئے اور بلاشبہ ترکی اور پاکستان بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ الزیدی کے مطابق، جو کچھ ہوا وہ ایران کے خلاف متوقع صیہونی۔امریکی جارحیت میں ان ممالک کی شمولیت کی پیش بندی تھی۔

چوتھا: یمن کے خلاف کارروائی میں اسرائیل کی عدم شمولیت

اسرائیل کا یمن کے خلاف کارروائی میں کھل کر شریک نہ ہونا، اور ممکنہ طور پر ایران کے خلاف آئندہ کارروائی میں بھی اس کا براہ راست حصہ نہ لینا، اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ الزیدی کے مطابق، اسی وجہ سے سعودی عرب نے امریکہ سے کہا تھا کہ کویت کو آزاد کرانے کی کارروائی کے دوران اسرائیل کو صدام حکومت کے خلاف جوابی حملہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ اس حکومت نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ ان کے بقول، اس حملے کے مقاصد پوری طرح واضح ہیں۔

پانچواں: جولانی کے 20 ہزار اہلکار

الزیدی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے فرمانبردار سپاہی جولانی نے یمن کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے 20 ہزار اہلکار سعودی عرب بھیجے ہیں۔ ان کے مطابق، بعد میں اتنی ہی تعداد میں اہلکار لبنان اور ضرورت پڑنے پر عراق بھی بھیجے جائیں گے۔

چھٹا: دہشت گرد تنظیموں کو حکومتی نظام کے طور پر مسلط کرنا

الزیدی نے لکھا کہ دہشت گرد تنظیموں کو فعال کرنا اور انہیں خطے کے ممالک میں حکمران نظاموں کی شکل میں مسلط کرنا، جیسا کہ شام میں ہوا، خطے کے بیشتر ممالک میں موجودہ حکومتوں کے متبادل کے طور پر دہرایا جائے گا۔

مزاحمتی محاذ کی فتح

الزیدی کے مطابق، مزاحمتی محاذ کی فتح اس وقت ممکن ہو گی جب اسرائیل کے ساتھ انضمام اور ابراہیم معاہدوں پر عمل درآمد کا منصوبہ ناکام ہو جائے اور امریکہ مغربی ایشیا سے نکلنے پر مجبور ہو۔ ان کے بقول، جہاں بھی دہشت گردی کو اقتدار پر قابض کر کے بیشتر موجودہ حکومتوں کی جگہ متبادل نظام قائم کیا جائے گا، وہاں امریکہ کو ایک بار پھر نجات دہندہ، فاتح اور آزادی دلانے والے کے طور پر خطے میں واپس آنے کا موقع مل سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha